#پاکستان
میں سمجھتا ہوں دنیا کا سب سے گھناؤنا جرم ریپ ہے۔ یہ کہنے کے بعد اگر میں یہ کہوں کہ مجھے عورت کے ریپ ہونے پر اتنی پریشانی نہیں جتنی پریشانی اس قوم کی کنفیوژن پر ہے جو جرم کی نوعیت اور مجرم کی نشاندھی کرنے سے قاصر ہے تو میری پریشانی کا اندازہ کر لیجیے۔
مجھے 2012 میں واٹس ایپ کا پتاچلا۔ تب سے اب تک بہت زیادہ گروپوں میں نہیں رہا ہوں لیکن چند ایک گروپوں کا میں ممبر رہا ہوں اور کچھ کا ابھی تک ہوں۔ مجھے کہنے دیجئے پاکستانی مردوں کی خصوصاً اور پوری پاکستانی قوم کی عموماً، صورتحال بہت خراب ہے۔ منافقت، لاعلمی اور جہالت سے بھرے ہوئے۔
جرائم کا ہونا بہت خطرناک ہے لیکن اگر قوم جرائم کو جرائم سمجھنے پر ہی الجھاؤ کا شکار ہو جائے تو قوم کی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ مذہب اور حکمرانوں کی بےسمتی کے ملاپ نے ایک ایسا معاشرہ تخلیق کر دیا ہے جو اپنے کہی ہوئی باتوں کی اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے مخالفت کرتا ہے اور اسے
پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ اپنی ہی کی ہوئی بات کی مخالفت کر رہاہے۔ صورتحال کی سنگینی متواتر مارشل لاء حکومتوں کی وجہ سے اور بڑھ جاتی ہے۔ صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ حل دور دور تک نظر نہیں آتا۔
اس کا ایک ہی حل ہے۔ میں کئی بار سعودی حکومت کی مثال دے چکا ہوں۔ وہ ملک جہاں یہ فتویٰ دیا
گیا تھا کہ عورت کے گاڑی چلانے سے مرد بے حیا ہو جاتے ہیں، آج اس ملک کے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں بھی عورت بے خوف وخطر گاڑی چلا رہی ہے۔ کیا آج سعودیہ کے مفتی اعظم کے فتوے کے مطابق عورت کے گاڑی چلانے سے مرد بے حیا نہیں ہو رہے؟ اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک حکمران کے پاس کتنی طاقت ہوتی
ہے اپنے عوام کا رخ متعین کرنے کی۔ مذہب کا مقابلہ کرنا آسان نہیں لیکن ایک حکمران، اگر ساری سرکاری مشینری ساتھ ہو تو مذہب کا مقابلہ بھی کر لیتا یے۔
پچھلی حکومت میں نواز شریف یہ کام کر رہا تھا۔ دیوبندیوں سے بھی دوستی تھی، بریلویوں سے بھی یاری تھی۔ شیعہ بھی قریبی حلقہ احباب میں شامل
تھے۔ایک دن ہندوؤں کو ہولی کی مبارکباد دیتا تھا تو کبھی پارسیوں کے سربراہ سے ملاقات کر رہا ہوتا تھا۔ کریسچن کیمیونیٹی کو اتنے ذوق وشوق سے کرسمس مناتے کم ہی دیکھا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کو عبدالسلام کے نام پر کر دیا تھا۔ ممتاز قادری جیسے دہشت گردوں کو بھانسی
پہ چڑھا رہا تھا۔ عوام میں موجود مذہبی لگن کی وجہ سے نواز شریف کے اقدامات پر عوام کے ذہنوں پر کچھ سوالیہ نشانات تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف اپنے اقدامات کی وجہ سے بہتوں کو ایک ڈائریکشن بھی دے رہا تھا۔ ایسا دس پندرہ سال چلتا رہتا تو پاکستانی قوم ذہنی طور پر خاصی صحت مند قوم
بن سکتی تھی۔
لیکن جمہوریت اور نواز شریف کے دشمن نوازدشمنی میں اتنا آگے چلے گئے کہ انہوں نے مذہب کو استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ نتیجتاً نواز کو تو پھر بھی آر ٹی ایس بند کر کے ہرانا پڑا لیکن جونقصان قوم کا ہوا اس نے اس قوم کو بہت بڑی آفت کی طرف دھکیل دیا ہے۔
نواز کے متبادل
کے طور جو آدمی لایا گیا ہےاسے اتنا ہی نہیں پتا کہ اچھا کیا ہو اور برا کیا ہے۔ ساری زندگی پلے بوائے کی طرح گزاری اور اب روحانی یونیورسٹیوں کا افتتاح کرتے پایا جاتا ہے۔ ملک میں لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک طبقہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھے لیکن باقی قوم
قانون کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہے؟ یہ مخصوص طبقہ جن ذرائعے کو استعمال کر کے اپنے آپ کو قانون سے بالا تر بناتا ہے، وہ ذرائع بھی پھر اپنے آپ کو اور اپنے مددگاروں کو قانون سے بالاتر بنواتے ہیں یوں ایک چین ری ایکشن شروع ہو جاتا ہے جو پوری قوم میں رچ بس جاتا ہے اور معاشرہ میں قانون
کا نفاذ محض ایک دوسرے کو پچھاڑنے کیلیے رہ جاتا ہے۔ ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ پاکستان کے موجودہ حکمران اپنا اقتدار چھوڑ کے اس کو اس کے قانونی حقداروں کو سونپیں گے۔ اس لیے حل کا نظر آنا ممکن نظر نہیں آتا۔ بہت پریشان کن دور آنے والا ہے۔ ونٹر اِز کمنگ۔
You can follow @majidurrehman.
Tip: mention @twtextapp on a Twitter thread with the keyword “unroll” to get a link to it.

Latest Threads Unrolled:

By continuing to use the site, you are consenting to the use of cookies as explained in our Cookie Policy to improve your experience.