حضرت عثمان رضہ خوداس امر میں مانع تھےکہ ان کے اقتدار کو بچانے کے لیے مدینہ میں مسلمان ایک دوسرے سے لڑیں۔وہ تمام صوبوں سے فوجیں بلا کر محاصرین کی تکا بوٹی کراسکتے تھے،مگر انہوں نے اس سے پرہیز کیا۔حضرت زید بن ثابت رضہ نے ان سے کہا کہ تمام انصار آپ کی حمایت میں لڑنےکو تیار ہیں،
1/5
1/5
مگر انہوں نے فرمایا(اما القتال فلا)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر سے بھی انہوں نے کہا کہ میں لڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ان کے محل میں سات سو آدمی لڑنے مرنے کے لیے موجود تھے،مگر انھیں بھی وہ آخر وقت تک روکتے ہی رہے حقیقت یہ ہے کہ اس انتہائی نازک موقع پر بھی
2/5
2/5
حضرت عثمان نے وہ طرز عمل اختیارکیا جو ایک خلیفہ اور بادشاہ کے فرق کو صاف نمایاں کرکے رکھ دیتا ہے۔ان کی جگہ کوئی بادشاہ ہوتا تو وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے کوئی بازی کھیل جانے میں بھی اسے باک نہ ہوتا۔اس کی طرف سے اگر مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی،انصار ومھاجرین کا قتل عام
3/5
3/5
ہوجاتا،ازواج مطہرات کی توہین ہوتی،اور مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم)بھی مسمار ہوجاتی تو وہ کوئی پروا نہ کرتا۔مگر وہ خلیفہ راشد تھے۔انہوں نے سخت سے سخت لمحوں میں بھی اس بات کو ملحوظ رکھا۔کہ ایک خدا ترس فرماں روا اپنے اقتدار کی حفاظت کے لئے کہاں تک جاسکتا ہے۔
4/5
4/5
اور کس حد پر پہنچ کر اسے رک جانا چاہیے۔وہ اپنی جان دے دینے کو اس سے ہلکی چیز سمجھتے تھے کہ ان کی بدولت وہ حرمتیں پامال ہوں جو ایک مسلمان کو ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہونا چاہئیں۔
امیرالمومنین #حضرت_عثمان_رضہ
(خلافت وملوکیت از سید مودودی رح؛ صفحہ 120)
5/5
امیرالمومنین #حضرت_عثمان_رضہ
(خلافت وملوکیت از سید مودودی رح؛ صفحہ 120)
5/5
Read on Twitter